RSS Feed

Monthly Archives: March 2013

حقایق نامہ

ھزارہ یونایٹڈ موومنٹ (ھم) کا ایک اہم اجلاس اسکے صدر دفتر لندن میں منعقد ہوا جسمیں مختلف امور زیر بجث لاے گیے  اور  اقوام متّحدہ  میں ادارہ ہذاءکی طرف سے پیش کی گیی ھزارہ نسل کشی سے متعّلق رپورٹ کے بارے میں بریفنگ دی گیی ۔اجلاس میں جہاں مختلف موضوعات پر بحث کی گیی اسمیں موجودہ تنازعہ کی قانونی  نقطوں پر روشنی بھی ڈالی گیی اور متفّقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ آیندہ ادارہ ھذا کے خلاف  ہر قسم کے منفی پروپیگنڈہ، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی افواہوں کا ہر فورم پر بھرپور جواب دیا جاے گا۔

اجلاس میں یہ طے پایا کہ آدھا تیتر آدھا بٹیرجیسے نام نہاد ادارہ  (ھزارہ آرگنایزیشن) کے گذشتہ ہفتے پھیلاۓ گیےلغو اور حقیقت سے عاری باتوں کا  مدّلل اور حرف بہ حرف  جواب دیا جاۓگا تاکہ ھزارہ قوم کے باشعور اورصاحب ذی ہوش افراد انکی کالی اور گھناونی حرکتوں کا ادراک کرکے انکا محاسبہ جاری رکھیں۔

میٹنگ میں بحث کی گیی اہم باتیں درج ذیل ہیں۔

جب  ھزارہ قوم کی نسل کشی اور قتل عام کا معاملہ ھزارہ انٹر نیشنل فورم آف گریٹ  بریٹن اور ھزارہ یونایٹڈ فورم  (ھم)، برطانیہ کی کوششوں سے ہاوس آف لارڈز میں 26 فروری، 2013 کو زیر بحث لاي گیی جسمیں برطانیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ، ھزارہ قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اخلاقی اور ادارہ جاتی تعاون کے لیے اہل سنّت کی دو بڑی دینی جماعتوں جو اہل سنّت و الجماعت (حقیقی) اور  مسلم کونسل آف گریٹ بریٹن کے علاوہ، ایمنیسٹی انٹرنیشنل، منہاج القرآن،  مجلس علماء شعیہ یورپ، انسانی حقوق کی یورپین کوآرڈینٹر، پختون خواہ ملّی عوامی پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، متّحدہ قومی موومنٹ اور ھزارہ قبایل کے بزرگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے یہ ثبوت دیا کہ ہم اس مشکل کی گھڑی میں ھزارہ قوم کے ساتھ ہیں۔
اس اجلاس سے صرف ایک دن پہلے، یعنی 25 فروری 2013 کو  بچہّ بغل پارٹی کے چیلے ہر طرح کی سازششیں کرتے رہے کہ کسی طرح سے ہاوس آف لارڈز میں منعقد ہونے والی 26 فروری کی کانفرس کو ثبوتازکر سکیں۔ انہوں نے درجنوں کے حساب سے ایمیلز متعلقہّ لارڈ کو بھجواے جنکے زریعے منتظمین کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گیی مگر انمیں ناکامی کے بعد  ایک انگریز عورت نے اپنی طرف سے لارڈ کو ایمیلز بھیجی تاکہ معاملہ کا رخ کسی اور طرف موڈ سکیں جسمیں پھر انہیں ناکامی ہوی حالانکہ اس دن شام کے تقریباّ سات بجےاسی عورت نے ھم کے چیرمین  سےفون پر  بات کی جسمیں انکے کام کو سراہتے ہوے انہیں مشورہ دیا گیا کہ جو کام دوسروں نے شروع کیا ہوں اسمیں کسی طرح کی مداخلت قانونا اور اخلاقا نادرست ہے جسے اسنے وقتی طور پر تسلیم کیا مگر بعد میں پھر بھی   لارڈ اور انکی ٹیم کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کی پوری پوری کوشش کرتی رہیں۔
ان سب کے علاوہ،  سیّد عنایت، ذاکر اور ارشد وغیرہ 25 فروری کو لندن میں ہونے والی بلا نمایندہ اقوام اور عوام کی تنظیم (یواین او پی) کے تحت بلوچستان سے متعلّق کانفرس میں شرکت کی تھی جسکا موضوع  تھا، “جنوبی ایشیاء میں عالمی اور علاقای سیکیورٹی چیلنجز : بلوچستان کا مستقبل کیا؟”
اس کانفرس میں شرکت کے بعد  ھزارہ قوم کو دھوکہ دینے اور انکی آنکھوں میں دھول جھونکے کی خاطر، سماجی رابطہ کی ویب سایٹ پر اس سرخی کے ساتھ اپنی تصاویر شایع کرودی کہ یہ لوگ ھزارہ قوم کے قتل عام کو اجاگر کرنے کے لیے وہاں گیے تھے حالانکہ اخباری تراشوں سےصاف ظاہر ہے کہ وہاں بلوچوں سے متعلقّ واقعات پر ہی روشنی ڈالی گیی تھی۔

(http://liaquatalihazara.wordpress.com/2013/03/03/nationalists-vs-opportunists/)

چونکہ انکی اس قومی غداّری اور ھزارہ مخالف کانفرنس میں شرکت سے لوگوں نے سوالات کرنے تھے۔ اس لیے جو ایمیل کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے اسکی اصل وجہ یہی ہے کہ ھزارہ قوم کی توجہّ کسی اور طرف ہوں اور لوگ ان سے انکی قوم دوستی سے متعلّق  سوالات نہ کریں کہ یہ کس کی اجازت سے، پاکستانی ریاست کے خلاف منعقد ہونے والی کانفرس میں شرکت کے لیے گیے تھے۔
ہم قاریین اور ھزارہ قوم کے باشعور اور غّیور افراد کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ درج ذیل سوالات کے جواب ان سے طلب فرماییں اور اپنے اندر دوست اور دشمن کو پہچان لیں۔

(ا) کیا پاکستان کے خلاف منعقد ہونے والی کسی کانفرنس میں جانے سے ملک میں آباد ھزارہ قبایل کی زندگیاں مزید خطرے میں نہیں پڑےگی؟

(ب) کیا اس سے امن و امان سے متعّلق اداروں، خفیہ اداروں، فوج اور دوسرے حکومتی اداروں میں اگر کچھ افراد ہمارے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں، انکی ہمدردی نفرت اور انتقام میں نہیں بدل جاے گی؟

(پ) یہ کیونکر ممکن ہے کہ  اس سے ان دہشت گرد عناصر، انکے مالی معاونین حمایت یافتہ افراد، ان چیزوں کو جواز بناکر ہماری آبادی کو مزید تخریب کاریوں کا ہدف نہیں بنا ینگے؟

(ت) آخر کس نے انکو حق دیا ہیں کہ یہ ھزارہ قوم کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں؟

(ٹ) پاکستان کے خلاف منعقد ہونے والی کانفرسز میں، اینٹی پاکستانی عناصراور  خفّیہ اداروں  کے اہلکار بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں، تو کیا یہ ممکن ہے کہ انکی موجودگی کو پاکستان کی خفیہ اداروں نے نظر انداز کر دیا ہوں ؟

(ث) یہ کیونکر ممکن ہے کہ انکی انہیں پاکستان مخالف سرگرمیوں سے ہماری قوم کو ناقابل تلافی نقصان نہ پہنچے؟

(ج) ان کی انہیں سرگرمیوں کی انجام دہی سے ہماری مشکلات بڑھتی ہے تو اسمیں فایدہ کس کا ہے؟

(چ) ان سے پوچھا جاے کہ انہوں نے کتنے میں ہمارے شہداء کے خون کے کوبیچن کی کو شش کی ہیں؟

(ح) کیا انکا اور دہشت گرد گروہوں کا مقصد ایک نہیں ہے کہ ھزارہ قوم لہولہان ہو اور انکی ، لاشوں پر سیاست کو دوام حاصل ہوں اور یہ اپنی سیاسی دکانداری چمکاتے رہیں؟

(خ) یہ کن کے اشاروں پر ھزارہ قوم کی نسل کشی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں آباد ھزارہ قوم پر مشکلات کو کم کرنے کے لیے اور  برطانیہ میں رہنے والے ھزارہ بزرگ کوپاکستان کے سفارتخانے سے  موصول شدہ فون کی روشنی میں، (ھم) کی مرکزی مجلس عاملہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ عمومی طور پر یہ تعاّصر دیا جاے کہ جو لوگ مذکورہ کانفرس میں شرکت کرنے گیے تھے وہ افغانستان سے تعّلق رکھنے والے ھزارہ ہیں جنکو پاکستان کی سیاست کا معلوم نہیں۔ لہذا، ثبوت کے طور پر متعلقّہ ‏ایم پی کو ایمیل کی گیی اور جسمیں ایم پی نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ انکا تعلقّ افغانستان سے ہیں۔ اسی ایمیل کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گیی اور جان بوجھ کر اسے زدزبان خاص و عام بنایا گیا تاکہ لوگوں کی توجّہ  اصل مسلہء کی طرف سے ہٹای جا سکیں۔
ان گذارشات کا مقصد اہل علم اور صاحب عقل افراد قوم تک اصل بات پہنچانی مقصود تھی اور آپ سب سے امید ہے کہ آیندہ، سماجی ویب سایٹ پر  دی گیی کسی بھی لغو اور بے بنیاد بات پر راے دینے سے پہلے، اچھیّ طرح چان بین کرلیں تاکہ حقایق تک پہنچ کر قومی فریضہ بطریق احسن ادا کی جاے۔

ادارہ ہذا اپنے ان دوستوں کے شکر گذار ہیں جنہوں نے معاملہ کی حساّسیت کو سمجھتے ہوے، ہم سے مسلسل رابطہ میں کیے رکھا جس سے انہیں اور بہت سارے دوسرے ذمہ دار لوگوں تک صحیح بات پہنچانے  میں سہولت رہی۔

دوسرا اہم مسلہء جو انہوں نے ایران سے بھاگے ہوے کچھ ناقص العقل ملاّزدہ لوگوں کی ملیّ بھگت سے معصوم اور سادہ لوح لوگوں تک پہنچانے کی سعی کی ہے وہ یہ کہ ہم نے، خدانخواستہ، انکے کسی عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ  حقیقت یہ ہے کہ جو ہاوس آف کامنز کے ایک کمرے میں منعقد ہونے والی کانفرس کا پہلا دور اس وجہ سے کامیاب ہواتھا کہ اسمیں ساری ھزارہ سیاسی تنظیموں نے بھرپور حصہّ لیا تھا مگر چونکہ انہوں نے اس عمل کو اپنے نام کرنے  کی مغموم  کوشش کی اور دوسری نشست سے پہلے، ھزارہ  انٹرنیشنل فورم آف گریٹ بریٹن، ہوپ اور استاد محقّق کے لوگوں نے کنارہ کشی اختیار کی اور انہیں، اس کانفرس کے دوسرے دور کو ،قم کے بھگوڈہ ملاّوں کے ساتھ مل کرکامیاب کرنے میں پوری طرح نہ صرف ناکام ہوے بلکہ سارے ھزارہ تنظیموں نے انکا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا۔  اسکی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہی مفاد پرست گروپ کا وطیر ہ رہا ہے کہ دوسرے کے شروع کیےگیے سیاسی سرگرمیوں کو اپنے  نام کرنا۔

(ھم) سمجھتی ہے کہ ہماری جتنی بھی سیاسی سرگرمیاں برطانیہ میں ہوتی ہیں وہ جاری رہےگی اور ان میں کسی گروپ کو مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ  ادارہ ہذا، بلوچستان میں بسنے والی دوسری  برادر قوموں، خصوصا بلوچ بھاییوں کی آیینی ، قانونی، معاشرتی اور اخلاقی حمایت کرتی رہے گی  ۔

UK Times’ Coverage of the Interactive Debate on the Genocide of Pakistani Hazaras

The UK Times covered the interactive debate on the Genocide of Pakistani Hazaras, taking place in the House of Lords on 25-03-2013.

UK Times (Genocide of Pakistani Hazaras) UK Times (Genocide of Pakistani Hazaras) i

 

(Source)

Jang Open Forum, London organised an interactive debate about the Genocide of Hazaras and Shi’ites of Pakistan.

Jang Open Forum, London organised an interactive debate about the Genocide of Hazaras and Shi’ites of Pakistan in its local office. Mr. Iftikhar Qaiser, Jang Editor hosted the show which is also televised on Geo TV in Europe and North American on Sky Channel 825.

Jang Open Forum I

Jang Open Forum I

Jang Open Forum II

Jang Open Forum II

Jang Open Forum III

Jang Open Forum III

Jang Open Forum IV

Jang Open Forum IV

Coverage of London Protest by other media channels.

Below are the photos and publication of international media channels regarding the 17th February, 2013 protest in front of Pakistani High Commission, London.

Daily Jang Newspaper, London

Daily Jang Newspaper, LondonQuetta Carnage

Quetta Carnage
i

Joint protest of HIF, HUM and other Groups

ii iii iv

Statement of Imran Khan, Chairman Pakistan Tehreek-e-Insaaf. 

ix

x

Members of UK Civil Society and members of House of Lords condemning Hazara Town bomb blast.

vi

vii

Dead bodies of the Hazara Town incident, lying in a local Imam Bargah in Quetta.

viii

xi

Sit-in Protest in front of Pakistani High Commissioner in London against the Hazara Town Carnage.

xii xiii xiv xix xv xvi xvii xviii xx xxi xxii xxiii

HAZARAS PROTEST IN FRONT OF PAKISTAN EMBASSY LONDON AGAINST KIRANI ROAD BOMBING

Image

Protesters in front of Pakistan Embassy London.

Hazara International Forum of Great Britain and Hazara United Movement, United Kingdom organised a peaceful protest in front of Pakistan Embassy, London on 17-02-2013 to raise voice against the callous bombing of Kirani Road which had killed over 84 innocent people and injuring more than 200 others.

Protesters shouting slogans

Protesters shouting slogans

The protest started at 12:00 noon with the recitation of the Holy Quran by Haji Marzooq Ali. The organisers, then, started shouting loud slogans in English and Urdu. The slogans denoted the Chief Justice of Pakistan, the Army Chief and the Government of Pakistan to take serious action against the perpetrators, their financiers and sympathisers. Hundreds of people participated in the protest including women and children.

The on-going persecution of Pakistani Hazaras has compelled everyone to come to streets and hold protests to raise strong and unified voice against it. The cold-killing of this ethnicity is continue since 1999 and thousands of innocent people have been targeted in south-western city of Pakistan’s Balochistan province. The repeated incidents of targeted killings and suicide and planted bombings have taken the lives of over 1500 Shi’ties while 1200 of them belong to the Hazara tribes. Over 4500 have been injured and about 65% of them are critically injured.

A protester holding a placard

A protester holding a placard

Pakistan’s mainstream political organisations such as Pakistan Tehreek Insaaf, Muthahida Qaumi Movement, Pashtoonkhawa Milli Awami Party and Pakistan Muslim League (N) also joined the protest to show their support and solidarity with the Hazaras.

Members of Pakhtoonkhawa Milli Awami Party (PMAP)

Members of Pakhtoonkhawa Milli Awami Party (PMAP)

Pakhtoonkhawa Milli Awami Party
Pakhtoonkhawa Milli Awami Party

The speakers included Haji Agha Marzooq Ali (Chairman Hazara International Forum of Great Britain), Liaquat Ali Hazara (Chairman Hazara United Movement, United Kingdom), Habib Ahmedi (General Secretary HIF), Maulana Abbas Haider (Majlis Ulama Shi’ite, Europe) and Maulana Musharraf Hussaini (MUS). The other speakers include Dr. Saleem Danish of MQM, Amjad Khan of Pakistan Tehreene-e-Insaaf and Akbar Khan Kakar of Pakhtoonkhawa Milli Awami Party (PMAP).

LAH (Chairman HUM)

LAH (Chairman HUM)

Dr Saleem Danish (MQM), addressing the protesters

Dr Saleem Danish (MQM), addressing the protesters

Dr. Saleem Danish said that MQM had always raised voice against all kinds of atrocities and cruelties. We shall standby our Hazara brothers and support them at this hard time. “Our condolences go to the families of the victims. This incident has traumatised Qauid Tehreek Altaf Bhai who has not eaten anything since. He said, “MQM fully supports the demands of the Hazaras and ask the government to accept them immediately. The demands are legitimate and constitutional. The state must provide full protection and security to the Hazaras in Balochistan”

Amjad Khan (UK President, Pakistan Tehreek Insaaf), addressing the protesters

Amjad Khan (UK President, Pakistan Tehreek Insaaf), addressing the protesters

Amjad Khan of Pakistan Tehreek Insaaf said that he had come to participate in the protest on special directives of the PTI Chief, Imran Khan who had asked him to attend it by all means. “PTI will raise voice on all forums against persecution of Hazaras. If PTI wins the next general election, it will wipe out terrorism and religious extremism from the country. The government has completely failed to provide security to the people”.

Member of Pakhtoonkhawa Milli Awami Party, addressing the protesters

Member of Pakhtoonkhawa Milli Awami Party, addressing the protesters

Akbar Khan Kakar addressed the protesters and said that the Pashtun and Hazaras have always lived together. “We will support our Hazara brothers at this crucial time. Hazaras lived in Balochistan before the partition. This is their native land and they must be provided security.”

An angry protester chanting slogan

An angry protester chanting slogan

At the end, a petition was handover to the Pakistani Embassy which laid down the demands as:

(i)                      Quetta city should be handed over to the army without any delay.

(ii)                  That the government must ensure to initiate surgical operation against the Islamist terrorists and Lashker-e-Jhangvi in and around Quetta city.

(iii)                 That a Judicial Enquiry Commission comprising of Three Serving Judges of the Supreme Court of Pakistan be set up immediately to investigate the matter thoroughly.

(iv)                 That the government must track and take immediate action against elements of intelligence agencies and law enforcement departments who have links with these terrorists.

(v)                  That the terrorists of Lashker-e-Jhangvi who have been arrested during Governor’s rule must be expeditiously tried in anti-terrorist courts.

(vi)                 That the financiers of the terrorists be tracked down and prosecuted immediately.

(vii)               That the families of the martyrs of these suicide attacks, targeted killings and planted bombings must be compensated from 2006.

(viii)       That the severely injured and injured victims of these incidents must be treated in private hospitals on government expense and be compensated for their loss.

(ix)                 That a family member of the affectees/victims be provided government job as per academic credentials.

 

 

The receipt of Petition by the Pakistani High Commission

The receipt of Petition by the Pakistani High Commission

The receipt of Petition by the Pakistani High Commission

The receipt of Petition by the Pakistani High Commission

Kid Protester with her mother

Kid Protester with her mother

This slideshow requires JavaScript.