RSS Feed

حقایق نامہ

ھزارہ یونایٹڈ موومنٹ (ھم) کا ایک اہم اجلاس اسکے صدر دفتر لندن میں منعقد ہوا جسمیں مختلف امور زیر بجث لاے گیے  اور  اقوام متّحدہ  میں ادارہ ہذاءکی طرف سے پیش کی گیی ھزارہ نسل کشی سے متعّلق رپورٹ کے بارے میں بریفنگ دی گیی ۔اجلاس میں جہاں مختلف موضوعات پر بحث کی گیی اسمیں موجودہ تنازعہ کی قانونی  نقطوں پر روشنی بھی ڈالی گیی اور متفّقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ آیندہ ادارہ ھذا کے خلاف  ہر قسم کے منفی پروپیگنڈہ، بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی افواہوں کا ہر فورم پر بھرپور جواب دیا جاے گا۔

اجلاس میں یہ طے پایا کہ آدھا تیتر آدھا بٹیرجیسے نام نہاد ادارہ  (ھزارہ آرگنایزیشن) کے گذشتہ ہفتے پھیلاۓ گیےلغو اور حقیقت سے عاری باتوں کا  مدّلل اور حرف بہ حرف  جواب دیا جاۓگا تاکہ ھزارہ قوم کے باشعور اورصاحب ذی ہوش افراد انکی کالی اور گھناونی حرکتوں کا ادراک کرکے انکا محاسبہ جاری رکھیں۔

میٹنگ میں بحث کی گیی اہم باتیں درج ذیل ہیں۔

جب  ھزارہ قوم کی نسل کشی اور قتل عام کا معاملہ ھزارہ انٹر نیشنل فورم آف گریٹ  بریٹن اور ھزارہ یونایٹڈ فورم  (ھم)، برطانیہ کی کوششوں سے ہاوس آف لارڈز میں 26 فروری، 2013 کو زیر بحث لاي گیی جسمیں برطانیہ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ، ھزارہ قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی اور اخلاقی اور ادارہ جاتی تعاون کے لیے اہل سنّت کی دو بڑی دینی جماعتوں جو اہل سنّت و الجماعت (حقیقی) اور  مسلم کونسل آف گریٹ بریٹن کے علاوہ، ایمنیسٹی انٹرنیشنل، منہاج القرآن،  مجلس علماء شعیہ یورپ، انسانی حقوق کی یورپین کوآرڈینٹر، پختون خواہ ملّی عوامی پارٹی، پاکستان تحریک انصاف، متّحدہ قومی موومنٹ اور ھزارہ قبایل کے بزرگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے یہ ثبوت دیا کہ ہم اس مشکل کی گھڑی میں ھزارہ قوم کے ساتھ ہیں۔
اس اجلاس سے صرف ایک دن پہلے، یعنی 25 فروری 2013 کو  بچہّ بغل پارٹی کے چیلے ہر طرح کی سازششیں کرتے رہے کہ کسی طرح سے ہاوس آف لارڈز میں منعقد ہونے والی 26 فروری کی کانفرس کو ثبوتازکر سکیں۔ انہوں نے درجنوں کے حساب سے ایمیلز متعلقہّ لارڈ کو بھجواے جنکے زریعے منتظمین کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گیی مگر انمیں ناکامی کے بعد  ایک انگریز عورت نے اپنی طرف سے لارڈ کو ایمیلز بھیجی تاکہ معاملہ کا رخ کسی اور طرف موڈ سکیں جسمیں پھر انہیں ناکامی ہوی حالانکہ اس دن شام کے تقریباّ سات بجےاسی عورت نے ھم کے چیرمین  سےفون پر  بات کی جسمیں انکے کام کو سراہتے ہوے انہیں مشورہ دیا گیا کہ جو کام دوسروں نے شروع کیا ہوں اسمیں کسی طرح کی مداخلت قانونا اور اخلاقا نادرست ہے جسے اسنے وقتی طور پر تسلیم کیا مگر بعد میں پھر بھی   لارڈ اور انکی ٹیم کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے کی پوری پوری کوشش کرتی رہیں۔
ان سب کے علاوہ،  سیّد عنایت، ذاکر اور ارشد وغیرہ 25 فروری کو لندن میں ہونے والی بلا نمایندہ اقوام اور عوام کی تنظیم (یواین او پی) کے تحت بلوچستان سے متعلّق کانفرس میں شرکت کی تھی جسکا موضوع  تھا، “جنوبی ایشیاء میں عالمی اور علاقای سیکیورٹی چیلنجز : بلوچستان کا مستقبل کیا؟”
اس کانفرس میں شرکت کے بعد  ھزارہ قوم کو دھوکہ دینے اور انکی آنکھوں میں دھول جھونکے کی خاطر، سماجی رابطہ کی ویب سایٹ پر اس سرخی کے ساتھ اپنی تصاویر شایع کرودی کہ یہ لوگ ھزارہ قوم کے قتل عام کو اجاگر کرنے کے لیے وہاں گیے تھے حالانکہ اخباری تراشوں سےصاف ظاہر ہے کہ وہاں بلوچوں سے متعلقّ واقعات پر ہی روشنی ڈالی گیی تھی۔

(http://liaquatalihazara.wordpress.com/2013/03/03/nationalists-vs-opportunists/)

چونکہ انکی اس قومی غداّری اور ھزارہ مخالف کانفرنس میں شرکت سے لوگوں نے سوالات کرنے تھے۔ اس لیے جو ایمیل کا ڈرامہ رچایا جا رہا ہے اسکی اصل وجہ یہی ہے کہ ھزارہ قوم کی توجہّ کسی اور طرف ہوں اور لوگ ان سے انکی قوم دوستی سے متعلّق  سوالات نہ کریں کہ یہ کس کی اجازت سے، پاکستانی ریاست کے خلاف منعقد ہونے والی کانفرس میں شرکت کے لیے گیے تھے۔
ہم قاریین اور ھزارہ قوم کے باشعور اور غّیور افراد کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ درج ذیل سوالات کے جواب ان سے طلب فرماییں اور اپنے اندر دوست اور دشمن کو پہچان لیں۔

(ا) کیا پاکستان کے خلاف منعقد ہونے والی کسی کانفرنس میں جانے سے ملک میں آباد ھزارہ قبایل کی زندگیاں مزید خطرے میں نہیں پڑےگی؟

(ب) کیا اس سے امن و امان سے متعّلق اداروں، خفیہ اداروں، فوج اور دوسرے حکومتی اداروں میں اگر کچھ افراد ہمارے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں، انکی ہمدردی نفرت اور انتقام میں نہیں بدل جاے گی؟

(پ) یہ کیونکر ممکن ہے کہ  اس سے ان دہشت گرد عناصر، انکے مالی معاونین حمایت یافتہ افراد، ان چیزوں کو جواز بناکر ہماری آبادی کو مزید تخریب کاریوں کا ہدف نہیں بنا ینگے؟

(ت) آخر کس نے انکو حق دیا ہیں کہ یہ ھزارہ قوم کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں؟

(ٹ) پاکستان کے خلاف منعقد ہونے والی کانفرسز میں، اینٹی پاکستانی عناصراور  خفّیہ اداروں  کے اہلکار بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں، تو کیا یہ ممکن ہے کہ انکی موجودگی کو پاکستان کی خفیہ اداروں نے نظر انداز کر دیا ہوں ؟

(ث) یہ کیونکر ممکن ہے کہ انکی انہیں پاکستان مخالف سرگرمیوں سے ہماری قوم کو ناقابل تلافی نقصان نہ پہنچے؟

(ج) ان کی انہیں سرگرمیوں کی انجام دہی سے ہماری مشکلات بڑھتی ہے تو اسمیں فایدہ کس کا ہے؟

(چ) ان سے پوچھا جاے کہ انہوں نے کتنے میں ہمارے شہداء کے خون کے کوبیچن کی کو شش کی ہیں؟

(ح) کیا انکا اور دہشت گرد گروہوں کا مقصد ایک نہیں ہے کہ ھزارہ قوم لہولہان ہو اور انکی ، لاشوں پر سیاست کو دوام حاصل ہوں اور یہ اپنی سیاسی دکانداری چمکاتے رہیں؟

(خ) یہ کن کے اشاروں پر ھزارہ قوم کی نسل کشی جاری رکھنا چاہتے ہیں۔

پاکستان میں آباد ھزارہ قوم پر مشکلات کو کم کرنے کے لیے اور  برطانیہ میں رہنے والے ھزارہ بزرگ کوپاکستان کے سفارتخانے سے  موصول شدہ فون کی روشنی میں، (ھم) کی مرکزی مجلس عاملہ نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ عمومی طور پر یہ تعاّصر دیا جاے کہ جو لوگ مذکورہ کانفرس میں شرکت کرنے گیے تھے وہ افغانستان سے تعّلق رکھنے والے ھزارہ ہیں جنکو پاکستان کی سیاست کا معلوم نہیں۔ لہذا، ثبوت کے طور پر متعلقّہ ‏ایم پی کو ایمیل کی گیی اور جسمیں ایم پی نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ انکا تعلقّ افغانستان سے ہیں۔ اسی ایمیل کو غلط طریقے سے پیش کرنے کی کوشش کی گیی اور جان بوجھ کر اسے زدزبان خاص و عام بنایا گیا تاکہ لوگوں کی توجّہ  اصل مسلہء کی طرف سے ہٹای جا سکیں۔
ان گذارشات کا مقصد اہل علم اور صاحب عقل افراد قوم تک اصل بات پہنچانی مقصود تھی اور آپ سب سے امید ہے کہ آیندہ، سماجی ویب سایٹ پر  دی گیی کسی بھی لغو اور بے بنیاد بات پر راے دینے سے پہلے، اچھیّ طرح چان بین کرلیں تاکہ حقایق تک پہنچ کر قومی فریضہ بطریق احسن ادا کی جاے۔

ادارہ ہذا اپنے ان دوستوں کے شکر گذار ہیں جنہوں نے معاملہ کی حساّسیت کو سمجھتے ہوے، ہم سے مسلسل رابطہ میں کیے رکھا جس سے انہیں اور بہت سارے دوسرے ذمہ دار لوگوں تک صحیح بات پہنچانے  میں سہولت رہی۔

دوسرا اہم مسلہء جو انہوں نے ایران سے بھاگے ہوے کچھ ناقص العقل ملاّزدہ لوگوں کی ملیّ بھگت سے معصوم اور سادہ لوح لوگوں تک پہنچانے کی سعی کی ہے وہ یہ کہ ہم نے، خدانخواستہ، انکے کسی عمل کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ  حقیقت یہ ہے کہ جو ہاوس آف کامنز کے ایک کمرے میں منعقد ہونے والی کانفرس کا پہلا دور اس وجہ سے کامیاب ہواتھا کہ اسمیں ساری ھزارہ سیاسی تنظیموں نے بھرپور حصہّ لیا تھا مگر چونکہ انہوں نے اس عمل کو اپنے نام کرنے  کی مغموم  کوشش کی اور دوسری نشست سے پہلے، ھزارہ  انٹرنیشنل فورم آف گریٹ بریٹن، ہوپ اور استاد محقّق کے لوگوں نے کنارہ کشی اختیار کی اور انہیں، اس کانفرس کے دوسرے دور کو ،قم کے بھگوڈہ ملاّوں کے ساتھ مل کرکامیاب کرنے میں پوری طرح نہ صرف ناکام ہوے بلکہ سارے ھزارہ تنظیموں نے انکا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا۔  اسکی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ یہی مفاد پرست گروپ کا وطیر ہ رہا ہے کہ دوسرے کے شروع کیےگیے سیاسی سرگرمیوں کو اپنے  نام کرنا۔

(ھم) سمجھتی ہے کہ ہماری جتنی بھی سیاسی سرگرمیاں برطانیہ میں ہوتی ہیں وہ جاری رہےگی اور ان میں کسی گروپ کو مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ  ادارہ ہذا، بلوچستان میں بسنے والی دوسری  برادر قوموں، خصوصا بلوچ بھاییوں کی آیینی ، قانونی، معاشرتی اور اخلاقی حمایت کرتی رہے گی  ۔

About Hazara United Movement (HUM)

Advocacy and Campaigning Organisation working for the rights of minorities and indigenous peoples.

Leave a Reply

Please log in using one of these methods to post your comment:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: